ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اننت کمار ہیگڈے کے خلاف اشتعال انگیز بیان کا معاملہ عدالت میں کیوں ثابت نہیں ہوا؟ 

اننت کمار ہیگڈے کے خلاف اشتعال انگیز بیان کا معاملہ عدالت میں کیوں ثابت نہیں ہوا؟ 

Tue, 03 Mar 2020 18:42:55    S.O. News Service

کیا پولیس نے جان بوجھ کر کمزور کیس بنایا؟ کیا گواہی دینے والے خوف کا شکار ہوگئے؟

کاروار3/مارچ (ایس او نیوز) سال 2018کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر ہوناور تعلقہ کے منکی میں بی جے پی امیدوار سنیل نائک کے لئے تشہیری مہم چلانے کے دوران مبینہ طور پر رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ لیکن پچھلے دنوں عوامی منتخب نمائندوں کی خصوصی عدالت نے اننت کمار ہیگڈے کو ثبوتوں کی کمی کا سبب بتاتے ہوئے اس معاملے سے بری کردیا۔

اجلاس کے دورا ن کھلم کھلامذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت پیداکرنے والے اشتعال انگیز بیانات دینے کے بعد عدالت میں معاملے کی سماعت کے دوران کیس ثابت نہ ہونے کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اس بارے میں جانکاروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر انتخابی ضابطہ اخلاق لاگو ہونے کے بعد ایک طرف پولیس، دوسری طرف انتخابی افسران اور تیسری طرف محکمہ آبکاری (ایکسائز) والے پوری طرح متحرک ہوجاتے ہیں اور اپنی کارکردگی اعلیٰ افسران کے سامنے ثابت کرنے کے لئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے چند ایک معاملات درج کردیتے ہیں۔ اخباروں میں اس کی رپورٹنگ بھی پورے اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ان معاملات کو ثابت کرنے کے لئے قانونی اور عدالتی سطح پر پوری سنجیدگی نہیں دکھائی جاتی، بلکہ جانچ رپورٹ اور چارج شیٹ کچھ ایسی کمزور بنائی جاتی ہے کہ ملزم پر معاملہ ثابت ہونہیں پاتا اور وہ بری ہوجاتا ہے۔ اس کے پیچھے مقامی سطح پر سرکاری افسران اور پولیس افسران کے ذہن میں بسا ہوا وہ خوف ہوتا ہے کہ اراکین اسمبلی اوراراکین پارلیمان کی دشمنی کون مول لے۔ اور جب ملزم اس پارٹی سے ہو جوکہ اقتدار میں ہے تو پھر ان کے ساتھ بیر رکھنا افسران کے لئے مصیبت بن جاتا ہے۔اس لئے تحقیقات میں جان بوجھ کر ڈھیل برتی جاتی ہے۔دوسری طرف گواہوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، اوروہ عدالت میں جاکر اپنے بیان سے پلٹ جاتے ہیں۔ استغاثہ یعنی پولیس بھی گواہوں پر کوئی محنت نہیں کرتی اور انہیں اپنے بیان پر قائم رہنے کے لئے آمادہ کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتی۔ ایسے میں ملزم کا بری ہوجانایقینی ہوتا ہے۔

 اننت کمار ہیگڈے کے معاملے میں بھی عدالت نے اپنے فیصلے میں صاف کہا ہے کہ اس کیس کو ثابت کرنے میں استغاثہ (پراسکیوشن) پوری طرح ناکام رہا ہے۔ گواہوں کے بیانات میں یکسانیت نہیں ہے۔ سوائے شکایت کنندہ (تحصیلدار) کے کسی بھی گواہ نے اننت کمار کے خلاف اس کیس کے حق میں کوئی بات نہیں کہی ہے۔تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ الیکشن فلائنگ اسکواڈ کے افسران، تقریر ویڈیوریکارڈنگ کرنے والا کیمرہ مین، جلسے میں موجود پولیس عملہ میں سے کسی نے بھی اننت کمار کے خلاف گواہی نہیں دی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اور گواہوں کا اصل منشاء اننت کمار ہیگڈے کو اس کیس میں سزادلانے کانہیں، بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرنے کا تھا۔اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اقتدار یا شخصیت کی دھا ک کی وجہ سے استغاثہ نے پکے ثبوت پیش نہیں کیے اور اننت کمار ہیگڈے اس کیس سے آسانی کے ساتھ بری ہوگیا۔


Share: